شیخ مفید ؒ بیان کرتے ہیں یمن میں ایک زاہد رہتا تھا جو ہر وقت عبادت و ر یاضت میں مشغول رہتا تھا۔ اس زاہد کا نام مشرم بن وعیب تھا اور یہ زاہد یمن نام سے مشہور تھا۔ اس کی عمر ایک سو نوے سال تھی اور یہ اکثر اوقات یہ دعا کرتا تھا۔ ”اے اللہ اپنے حرم سے کسی بزرگ کو بھیج تا کہ میں اس کی زیارت سے مشرف ہو سکوں“ شیخ مفید فرماتے ہیں اس زاہد کی دعا قبول ہوئی اور جناب ابو طالب تجارت کی غرض سے یمن پہنچے اور اس زاہدسے ملاقات ہوئی۔ زاہد نے جب آپ کودیکھا تو انتہائی تعظیم سے پیش آیا اور پوچھا آپ کہا ں کے رہنے والے ہیں؟ جناب ابو طا لب نے کہا میں تہامہ کا رہنے والا ہوں۔اس نے پوچھا کون سے تہامہ؟ جناب ابو طالب نے جواب دیا کہ مکہ مکرمہ۔ زاہد نے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟جناب ابو طالب نے جواب دیا کہ میرا تعلق ہاشم بن عبد مناف سے ہے۔زاہد نے جب جناب ابو طالب علیہ السلام کی بات سنی تو بے اختیار آگے بڑھ کر بوسہ لیا اور کہا۔”الحمداللہ! میری دعا قبول ہوئی اور مجھے حر مین شریفین کے خادم کی زیارت نصیب ہوئی“پھر اس زاہد نے آپ سے نام دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ میرا نام ابو طالب ہے۔زاہد نے پوچھا کہ آپ کے والد کا نام کیا ہے تو جناب ابو طالب نے بتایا میرے والد کا نام عبدالمطلب ہے۔ زاہد نے جب حضرت عبدالمطلب کا نام سنا تو یہ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا میں نے الہامی کتابوں میں پڑھا ہے کہ”جناب ابو مطلب کے دو پوتے ہوں گے جن میں سے ایک نبی ہوگا اور دوسرا ولی اللہ اور ان کا جو پوتا نبی ہوگا اس کے والد کا نام عبداللہ ؓ ہوگا۔ جب نبی 30 برس کے ہو جائیں گے اس اسی وقت اللہ کا یہ ولی پیدا ہوگا اور اے ابو طا لب! وہ نبی پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں؟“جناب ابو طالب نے کہا میرے بھائی عبداللہ کا بیٹا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہو گیا ہے اور وہ اس وقت تقریبا 29 برس کا ہے۔ اس زاہد نے کہا۔”آپ جب واپس جائیں تو انہیں میرا سلام کہیں اور کہیں میں ان کو دوست رکھتا ہوں۔ پھر جب وہ نبی اس دنیا سے پردہ فرما جائیں گے تو پھر آپ کے بیٹے کی ولادت ظاہر ہو گی۔“ جناب ابو طالب نے زاہد کی بات سن کر فرمایا کہ میں اس حقیقت کو کیسے جان سکتا ہوں؟اس زاہد نے کہا آپ وہ چیز چاہتے ہیں جس سے میری سچائی کا علم ہو؟جناب ابو طالب نے ایک سوکھے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مجھے اس طرف سے تازہ انار چاہئیں؟ اس زاہد نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ”اے اللہ! میں نے نبی اور ولی کی تعریف کی ان کے صدقے میں مجھے تازہ انار عطا فرما“ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ درخت ہرا بھرا ہو گیا اور اس میں تازہ انار پک گئے۔جناب ابو طالب نے وہ انار کھایا اور اس عابد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔یہ تھا آج کا قصہ۔ اس کے علاوہ ہمارے روحانی سینٹر میں تمام مسائل کے روحانی حل کے لئے قرآنی نقوش بھی موجود ہیں منگوانے کے لئے ان وٹس اپ نمبرز پر رابطہ کریں۔


Male:0301-0147869
Female:0306-4151113